Header Ads

(SOCRATES) سقراط

سقراط دنیائے فلسفہ کا سب سے عظیم اور جلیل القدر مفکر تھا۔جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی۔سقراط 470 قبل مسیح میں یونان کے معروف شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ ان کی ابتدائی زندگی کے تحریری شواہد ناپید ہیں۔ تاہم افلاطون اور مابعد فلسفہ کے حوالے بتاتے ہیں کہ وہ ایک مجسمہ ساز تھا جس نے حب الوطنی سے سرشار ہوکر بہت سی یونانی جنگوں میں حصہ لیا اور داد شجاعت لی۔
 سقراط کے ایک قریبی دوست کرایٹو کے مطابق جب اس نے پہلی مرتبہ سقراط کو دیکھا تو وہ ان دنوں سقراط کو ایتھنز کا سب سے بدصورت لڑکا تصور کرتا تھا۔اس کی آنکھیں مینڈک کی آنکھوں کی طرح باہر کو نکلی ہوئی  تھی۔ اس کے ہونٹ موٹے تھے۔ اس کی چپٹی ہوئی ناک یوں نظر آتی تھی جیسے کسی نے بچپن میں ہی اسے مروڑ کر رکھ دیا ہو۔ اسکول میں لڑکے سقراط کو مینڈک کہا کرتے تھے۔
بظاہر تو سقراط شکل سے بالکل بھی حسین نہیں تھا لیکن ایک دفعہ جب لوگ گھومنے پھرنے باہر گئے ہوئے تھے تو سقراط نے اس جگہ کے دیوتاؤں سے دعا مانگی یہ دعا اس کی طبیعت  کے مطابق تھی اور اس کے الفاظ تھےکہ اے خدا میرے باطن کو حسین بنا
سقراط کے والد کا نام سوفرونس کس تھا جو پیشے سے ایک مجسمہ ساز تھا اور ان کی والدہ کا نام فیتے رہتی تھا جو کہ بچہ پیدا ہوتے وقت ہمسائیہ کے خواتین کی مدد کیا کرتی تھیں ۔سقراط کا گھرانا ایسے افراد پر مشتمل تھا جو نہ  امیر تھے  اور نہ ہی  غریب  بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
سقراط افلاطون کا استاد اور مرشد ہے اور ارسطو افلاطون کا شاگرد ہے اس لحاظ سے سقراط ارسطو اور افلاطون دونوں کا استاد ہے ہے اور وہ اس تمام فلسفہ کا سر چشمہ ہے جو دو ہزار سال سے زائد عرصے سے مشرق و مغرب کے اذہان پر مسلط ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس کی مفکر کی خود نوشت کوئی تصنیف نہیں اس نے قلم سے ایک حرف نہیں لکھا۔
سقراط کے مکالمات کو ان کے بابغہ شاگرد حکیم افلاطون نے اپنی تصانیف سے لافانی بنادیا۔ اگر حسنِ تقدیر سے ایسا ادیب و حکیم شاگرد اسے میسر نہ آتا تو آج تاریخ فلسفہ میں سقراط دیگر  ناموں کی طرح میں ایک نام ہوتا اور چند فقروں میں کہہ دیا جاتا کہ وہ ایسی ایسی تعلیم دیتا تھا لیکن مکالمات افلاطوں میں سقراط دو ہزار برس بعد بھی زندہ  بگویا اور سخن طراز ہے۔
سقراط نے دنیا کو ایک نئے انداز مبحث سے آشنا کرایا۔ اس کا طریق  بحث فسطائی قسم کا تھا مگر اسے مناظرہ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ بحث سے اخلاقی نتائج تک پہنچتا اور حقیقت ثابت کرتا وہ پے در پے سوالات کرتا پھر دوسروں پر ان کے دلائل کے تصادات عیاں  کرتا اور مسئلہ کی تہہ تک پہنچ کر منطقی و مدلل جواب سامنے لاتا۔

:ان کے نظریات کا خلاصہ کچھ یوں ہے
  • روح حقیقی مجرد ہے اور جسم سے جدا ہے۔  جسم  کی موت روح  کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی آزادی کی ایک راہ ہے۔لہذا موت سے ڈرنا حماقت ہے۔
  • جہالت کا مقابلہ کرنا چاہیے اور انفرادی مفاد کو اجتماعی مفاد کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔
  • انسان کو انصاف و ظلم اور سچ و جھوٹ میں ہمیشہ تمیز رکھنی چاہیے۔
  • حکمت و دانش کا علمی کے ادراک میں پنہاں ہیں۔
 (بحوالہ: انسائیکلوپیڈیا (انٹرنیٹ وکی پیڈیا۔ 
 
سقراط کے مطابق ہر شخص فطرت خیر کا طالب ہوتا ہے لیکن جہالت کی وجہ سے شر کو خیر سمجھ لیتا ہے اس لیے زندگی میں مسلسل یہی کوشش ہونی چاہیے کہ جہالت کو دور کیا جاسکے تاکہ لوگ خیروشر میں امتیاز کر سکیں۔ جو شخص مختلف طور پر کسی بات کو کھیر سمجھے گا گا وہ ضرور اس پر عمل کرے گا۔سقراط کہتا ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر شرک  کی پیروی نہیں کرتا وہ اپنی جہالت  سے پہلے اسے خیر  سمجھ لیتا ہے اور اس پر عمل ہوتا ہے۔
یہ ناممکن کہ کوئی شخص آج فلسفہ اخلاق پر کچھ لکھنا بیٹھ جائے اور وہ سقراط کے افکار و مباحث کو نظر انداز کردے۔چاہے اسے سقراط سے اتفاق ہو یا اختلاف۔ سقراط کا فلسفہ کسی کتاب سے نہیں بلکہ براہ راست زندگی سے ابھرتا ہے۔اس نے اپنے آپ کو طبیعات و ریاضیات جیسے مسائل میں نہیں الجھا یا، ان کی تمام کوشش عرفان  نفس کے متعلق تھیں۔
:چند  مشہور نصائح سقراط
  • بچپن میں شرمایا جوانی میں اعتدال اور پیری میں کفایت شعاری اور عاقبت اندیشی ضروری ہے۔
  • خوبصورتی چند روزہ حکومت ہے۔
  • نیک آدمی کو زندگی میں یا موت کے بعد کوئی ظلم نہیں پہنچ سکتا۔
  • بے شک عقل سب سے اچھی چیز ہے اور تمام امور کا انحصار اسی پر ہے، مگر بعض اشیاء ایسی ہیں جنہیں ہم روزمرہ زندگی میں دیکھنے کے باوجود غرض و غایت نہیں سمجھتے۔
  • جو خدا سے نہیں ڈرتا وہ سب سے ڈرتا ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
  • لوہا صرف  لڑائی کے وقت سونے سے قیمتی سمجھا جاتا ہے مگر عقل ہر وقت ہر جگہ سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔
  • خوبی اور نیکی  دولت  سے نہیں بلکہ دولت خوبی اور نیکی سے وجود میں آتی ہے یاد رکھو! فتح طاقت کی نہیں صداقت کی ہوتی ہے۔
  • تحریر خاموش آواز ہے اور قلم ہاتھ کی زبان ہے۔
  • برائی اور جھوٹ ٹیلنٹ کی کمی کے سبب مرض وجود میں آئے ۔

فطرتاً سقراط نہایت اعلی اخلاق اور اوصاف کا حامل، حق پرست اور منصف مزاج استاد تھا۔ اپنی اسی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غوروفکر کے باعث اخیر عمر میں انہوں نے دیوتاؤں کے حقیقی وجود سے انکار کیا جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں سقراط کو موت کی سزا سنائی اور انہوں نے حق کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا۔




2 comments:

  1. اوہ یہ سقراط پہلے تو میں نے نام دیکھ کر پڑھنے کا ارادہ کینسل کر دیا تھا پر پھر پڑھ لیا۔۔۔ اب جان گئی کہ کوئی پرسنالٹی ہے ۔۔۔

    ReplyDelete

Computer Organization and Design MIPS Edition (sixth edition) Full book pdf

 Here is complete Book of Computer Organization and Design MIPS Edition (sixth edition) by David A. PATTERSON and John L. HENNESSY: