بندگی::: اللّٰہ کی عبادت
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ (سورہ نمبر 51، آیت 56
اللہ تعالی نے دنیا میں میں کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی کی دنیا کی ہر چیز چیز کسی نہ کسی مقصد کے تحت ہی بنی ہے۔
پیش کی گئی آیت میں انسانی زندگی کا ایک مقصد معلوم ہوتا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ انسان اللّٰہ تعالی کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے لہذا اگر کوئی آدمی اللّٰہ کی رضا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی زندگی اللّٰہ کی عبادت میں گزارے۔
عبادت سے مراد صرف نماز، روزے، تلاوت قرآن نہیں۔ یہ لفظ نہایت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ انسانی زندگی ہر لمحے کسی نہ کسی عمل اور حالت سے گزر رہی ہوتی ہے۔ کبھی ہم مصروف زندگی ہوتے ہیں تو کبھی طالب علم بن کے تعلیم حاصل کرنے میں وقت گزارتے ہیں۔ تفریح کے لیے سیر و سیاحت اور کھیل کود کرتے ہیں۔ کمائی کا وقت آتا ہے تو دن کا ایک بڑا حصہ کمائی میں وقف کرتے ہیں۔ انسانی زندگی سے خوشی غمی بھی جڑی ہے، چنانچہ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کی تقریبات میں شامل ہونا بھی ضروری ہے۔ ان محافل میں میں لوگوں سے گفتگو کرنا اپنے خیالات کا اظہار کرنا ایک فطری عمل ہے۔
بندگی الہی کا مطلب ہے کہ انسان جو بھی کام کام کرے اللّٰہ تعالی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کرے۔
اکثر اوقات ہم دنیا کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں ہیں، مثلا عام سوچ یہی ہے کہ سفر کرنا، کسی محفل میں شرکت کرنا، تفریح کرنا (انٹرنیٹ کا استعمال کھیل کود وغیرہ) سکول کالج، ملازمت و کاروبار وغیرہ۔۔۔۔یہ تمام دنیاوی کام ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر حقیقت ایسا نہیں۔
دین ہم سے صرف یہ تقاضہ کرتا ہے کہ کہ یہ تمام کام ہم اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق کریں کریں انہیں اصولوں کو جاننا دینی تعلیم یا علم کہلاتا ہے۔
گفتگو سے متعلق ہمیں جین کی تعلیم ملتی ہے کہ :
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو،نہیں برے القاب سے یاد کرو۔ایمان کے بعد فسق کا نام ہی بہت برا ہے۔۔۔۔ (سورہ49، آیات11_12)
تو کمائی کرتے ہوئے سکول کالج میں دوستوں سے بات کرتے ہوئے، انٹرنیٹ پر وقت صرف کرتے ہوئے اگر ہم ان اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے فاش گوئی، جھوٹ،غیبت، طعنہ زنی، لعنت و ملامت سے بچیں، جذبے سے صرف سنجیدہ گفتگو کرے کی یہ اللہ کا حکم ہے ہے۔ نا پسندیدہ اور فساد والی گفتگو سے پرہیز کریں تو ہمارا گفتگو میں گزارا وقت اللہ کی عبادت میں گزرے گا۔
غرض یہ کہ روزمرہ کے ہر کام کا طریقہ کار اسلام نے وضع کیا ہے۔اگر ہم یہ کاماسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کریں گے تو ہمارا یہ کام بھی ہو جائے گا اور عبادت میں بھی شمار ہوگا۔
جبکہ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ صرف نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور تلاوت قرآن کو ہی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے جب کئی دوسرے کام دنیاوی ہیں کہ گھر کہ ان پر خاص توجہ نہیں دی جاتی یا وہ کام خلاف شریعت کئے جاتے ہیں۔ ہونا یہ چاہیے کہ انسان دین اور دنیا کوساتھ لے کر چلے تب ہی دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوگی۔
نے احکام الہی یعنی دین کے علم کو جاننے کا سب سے آسان ذریعہ قرآن پاک ہے قرآن پاک نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان ترین کتاب ہے۔ قرآن پاک پر تدبر (غور و فکر) کریں اور سوچ سمجھ کر پڑھیں قرآن پاک کا نزول کا مقصد بھی یہی ہے۔
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں۔ (سورہ38، آیت 29)
الغرض قرآن پاک کے مطالعہ سے دین کا علم حاصل کریں، اور اپنے آپ کو حاصل کر دیا کریں یہی اللہ کی عبادت ہے۔
Jazakallah
ReplyDeleteشکریہ بھائی
Deleteماشاءاللہ بہت خوبصورت تحریر۔۔۔ لکھتے رہو اسی طرح اسلامک پوائنٹس ریز کرو۔۔ بہت اچھا لکھا ہے۔۔
ReplyDeleteجزاک اللہ جی
Delete