انصاف اور غیر جانبداری:
پاکستان میں ایک روایت چل پڑی ہے کہ جب بھی کوئی دو فریق کسی تنازعے کی بنیاد پر اپنا مقدمہ لے کر عدالت جاتے ہیں اور عدالت اپنی مکمل تحقیقات، چھان بین اور ثبوت و گواہان کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سناتی ہے۔ ظاہر ہے اب یہ فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں جبکہ دوسرے کی مخالفت میں ہوگا۔ اب روایت یہ چل پڑی ہے کہ جس کسی بھی فریق کی مخالفت میں فیصلہ آجائے وہ سر تسلیم خم۔ کر عدالتی فیصلہ تو قبول نہی کرتے بلکہ یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جی جج صاحبان جانبدار ہوگئے یا اتنا کچھ بھی کہا جاتا ہے کہ ججز نے پیسے لیکر دوسرے دوسرے فریق کے حق میں فیصلہ سنادیا ۔ اب جب ایسے حالات میں بات غیر جانبداری اور خود غرضی سے مبرا ہوکر فیصلہ کرنے پر آتی ہے تو مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ بار بار زہن میں آتا۔
یہ اس وقت کی بات جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے مطلب یہ کہ یہ واقعہ آج سے قریب نو سال پرانا ہے۔ اتوار کا دن تھا اور ہم گاؤں کے بچے گاؤں کے بالکل وسط میں کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ہر ٹیم میں 5 سے 6 بچے تھے ۔ جب ہماری ٹیم کی بیٹنگ آئی تو ہماری ٹیم کے کپتان نے مجھ سے کہا کہ آپ فی الوقت ایمپائرنگ کی زمہ داری نبھائیں۔ ہماری ٹیم کے کپتان صاحب پہلے ہی بیٹنگ میں آگئے۔ پہلے دو اوورز تو انہوں نے سکون سے بیٹنگ کی لیکن تیسرے اوور کی پہلی ہی گیند ان کی وکٹ پر لگ گئی اور وہ صاحب آؤٹ ہوگئے۔ اب میں نے ایک غیر جانبدار ایمپائر کے طور پر انہیں آؤٹ قرار دیا تو ہمارے کپتان صاحب میرا فیصلہ ماننے سے انکار کر گئے اور کہاں کہ بال اتنی تیز آئی تھی جو کہ نوبال تھی اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ک" تم نے اپنی بیٹنگ کے لیے نوبال نہی پکڑی اور مجھے آؤٹ قرار دیا" اب انہوں نے نہ صرف میرا فیصلہ ماننے سے انکار کیا بلکہ یہ کہتے ہوئے مجھے ایمپائرنگ اور ٹیم دونوں سے نکال دیا کہ میں بیٹنگ کی لالچ کرتا ہوں۔
اب اس کم عمری کے واقعے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی آپ غیر جانبدار رہ کر فیصلے کریں تو آپ کے اپنے ہی آپ کو غدار اور خود غرض جانیں گے۔

Post a Comment